[بادِ صبا [رنگین،اردو
ھم کالج کے زمانے میں مقرر ھوا کرتے تھے اور بہت جوش سے تقریری مقابلوں میں جا تے تھے لیکن جب مقابلہ کسی گرلز کالج میں ہوتا تو جوش کے ساتھ ‘جزبہ’ بھی کارفرما ہوتا تھا۔ یہ اور بات کہ جزبے کے ہاتھوں کئی بار ہمارے جوش کا جوشاندہ بنا۔
ہماری درسی کتب میں ‘پڑھنے’ کو تو بہت سے فارمولے درج ہیں لیکن ‘بولنے’ کی کوئی ترکیب نہیں لکھی شاید اسی لیے زیادہ تر مُقررین نہا ی پکانے کی ترکیب دیکھ کر اپنی تقریر تیار کرتے تھے۔ وہ بیت المقدس و کشمیر کے مظالم اور مسلمانوں کی بے راہ روی اور عیاشی کا آمیزہ بناتے اور دماغ کی دیگ پر تالا لگا کر گلنے کے لیے چھوڑ دیتے تھے اور تقریر کرتے وقت اقبال اور فیض کے اشعار کا ‘تڑکا’ لگا کر حاضرین کے سامنے پیش کرتے۔
زیادہ تر مقررین اسی ترکیب پہ عمل کرتے تھے چاہے تقریر کا عنوان ‘شمسی توانائی کی افادیت’ ہی کیوں نہ ہو- ہاں مگر کچھ رنگین مزاج مقررین ‘ پھجے کے پائے’ کی ترکیب پہ بھی عمل کرتے تھے ہم نے خود ایک طالبعلم کی تقریر سنی جنہوں نے ‘شمسی توانائی کی افادیت’ کے موضوع پر اپنے ٹیچر شمسی صاحب کو موضوع بحث بنایا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شمسی صاحب نے دو شادیاں کی ہوئیں تھیں۔ ہماری رائے میں [جو ایشوریا بھی رہ چکی ہے] مسلمانوں کے مسائل کو تقریر سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے، اگر مسلمان عیاش طبع ہو گئے ہیں تو ہم آپ کیا کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوائے مسلمان ہونے کے۔ ہم تو پیدہ ہوتے ہی مسلمان ہو گئے تھے کیوں کہ بڑی عمر میں مسلمان ہونا بڑا مشکل عمل ہے۔
مقابلوں میں لڑکیوں کی تقاریر کو لڑکے بہت زوق و شوق سے ‘دیکھتے’ تھے۔ ہم چونکہ دیکھنے کے ساتھ ساتھ سنتے بھی تھے لہزا لڑکیوں کی تقریر کا ‘بھی’ پوسٹ مارٹم کرتے تھےاور اکثرہم اپنی تقریر میں پوسٹ مارٹم رپورٹ پیش کر دیا کرتے تھے۔ جس لڑکی کا ہم پوسٹ مارٹم کرتے، وہ ہمیں پوسٹ مارٹم ٹیبل پہ لٹانے کے درپہ ہو جاتی۔ شاید لڑکیوں کے ہاتھوں لیٹنے کی خوا ہش ہی ہمیں تقریر کرنے پر اُکساتی تھی ورنہ تقریر کرنا تو مولویوں اور سیاستدانوں کا کام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شرفاء کا نہیں۔
یہاں مجھے ایک مقررہ یاد آ گئیں جن کا نام صبا تھا اور جو دیکھنے میں گرائپ واٹر پہ بنے ہوئے بچے کی جوانی لگتی تھیں۔ لیکن آپ انہیں ‘موٹی’ نہیں کہہ سکتے تھے،اس لیے نہیں کہ وہ موٹی نہیں تھیں بلکہ اس لیے کہ ان کی سہیلیاں صبا سے بھی زیادہ صحتمند تھیں لہزا ہم دفع شر کی خاطر انہی گرائپ واٹر کہ نام سے یاد کرتے تھے ۔ ایک دفعہ ہم نے دوستوں کے چندے سے سرخ کاغز میں خوبصورتی سے لپٹا ہوا ایک تحفہ انہیں دیا جسے لیتے ہوئے ان کے ہاتھوں میں جھجھک، آنکھوں میں چمک اور چہرے پہ اتنی دمک تھی کے ان کے دبیز گال سرخ کاغز سے ‘میچ’ کرنے لگے۔تحفہ لیکر وہ سر جھکائے تیزی سے پلٹیں اور اس سے بھی تیزی سے آگے قدم بڑھائے لیکن کسی ظالم نے سالوں پہلے اس سمت کمرے کی دیوار کھڑی کی ہوئی تھی جس سے ٹکرا کر صبا تیزی سے دوسری سمت جاتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہو گئیں۔ ایسے، جیسے سرخ کوئن کیرم بورڈ کے کنارے سے ٹکرا کر پاکٹ میں غائب ہوتی ہے۔ ہم ابھی کوئن کے کور کی فکر کر ہی رہے تھے کہ کچھ ہی دیر میں صبا اپنی باڈی گارڈ سہیلیوں کی ساتھ آ دھمکیں،اس دفعہ ان کی ‘آنکھیں’ سرخ کاغز سے میچ کر رہی تھیں، ہئونٹ غصے سے بھینچنے کے باعث ان کا منہ ہنومان سے مشابہہ ہو گیا تھا۔ دوستوں کو بھاگتا دیکھتے ہوئے صبا کی سہیلیوں نے سوال داغنے شروع کر دیئے کہ
سرخ کاغز میں بچے کی تصویر والی گرائپ واٹر کی بوتل دے کر ہم کیا ‘سجسٹ’ کرنا چاہ رہے ہیں؟
کیا ہم بال بناتے ہوئے بھی آئینہ نہین دیکھتے؟
ہمارے بھائی بہن ہیں یا ہم اکلوتے ہیں ؟
ایک صلح جُو سہیلی نے مشورہ دیا کہ اگر ہمیں بچوں سے اتنی محبت ہے تو ہمیں اپنے والدین کو صبا کے گھر بھیج دینا چاہیئے [یہ نہیں بتایا کہ پھر اکیلے گھر میں ہم کیا کریں؟] وغیرہ، وغیرہ
یقین جانیئے کے چندے کی بوتل خریدتے ہوئے ہم اور ہمارے دوستوں کے وہم و گمان میں بھی یہ ‘ کری ایٹو’ باتیں نہیں تھیں سوالات کی یلغار تھمی تو ہم نے قریب جا کر صبا کو گرائپ واٹر پہ بنی ہوئی بچے کی تصویر اور ان کی بھرپور جوانی کا ربط سمجھایا اور جب تردد کہ بعد انہیں سمجھ آگیا تو انہوں نے فوری طور سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہم آئندہ ان سے ایک ہزار نوری سال کے فاصلے پہ رہیں۔
یہاں مجھے ایک مقررہ یاد آ گئیں جن کا نام صبا تھا اور جو دیکھنے میں گرائپ واٹر پہ بنے ہوئے بچے کی جوانی لگتی تھیں۔ لیکن آپ انہیں ‘موٹی’ نہیں کہہ سکتے تھے،اس لیے نہیں کہ وہ موٹی نہیں تھیں بلکہ اس لیے کہ ان کی سہیلیاں صبا سے بھی زیادہ صحتمند تھیں لہزا ہم دفع شر کی خاطر انہیں گرائپ واٹر کہ نام سے ہی یاد کرتے تھے ۔ ایک دفعہ ہم نے دوستوں کے چندے سے سرخ کاغز میں خوبصورتی سے لپٹا ہوا ایک تحفہ انہیں دیا جسے لیتے ہوئے ان کے ہاتھوں میں جھجھک، آنکھوں میں چمک اور چہرے پہ اتنی دمک تھی کے ان کے دبیز گال سرخ کاغز سے ‘میچ’ کرنے لگے۔تحفہ لیکر وہ سر جھکائے تیزی سے پلٹیں اور اس سے بھی تیزی سے آگے قدم بڑھائے لیکن کسی ظالم نے سالوں پہلے اس سمت کمرے کی دیوار کھڑی کی ہوئی تھی جس سے ٹکرا کر صبا تیزی سے دوسری سمت جاتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہو گئیں۔ ایسے، جیسے سرخ کوئن کیرم بورڈ کے کنارے سے ٹکرا کر پاکٹ میں غائب ہوتی ہے۔ ہم ابھی کوئن کے کور کی فکر کر ہی رہے تھے کہ کچھ ہی دیر میں صبا اپنی باڈی گارڈ سہیلیوں کی ساتھ آ دھمکیں،اس دفعہ ان کی آنکھیں سرخ کاغز سے ‘میچ’ کر رہی تھیں، ہئونٹ غصے سے بھینچنے کے باعث ان کا منہ ہنومان سے مشابہہ ہو گیا تھا۔ دوستوں کو بھاگتا دیکھتے ہوئے صبا کی سہیلیوں نے سوال داغنے شروع کر دیئے کہ
سرخ کاغز میں بچے کی تصویر والی گرائپ واٹر کی بوتل دے کر ہم کیا ‘سجسٹ’ کرنا چاہ رہے ہیں؟
کیا ہم بال بناتے ہوئے بھی آئینہ نہین دیکھتے؟
ہمارے بھائی بہن ہیں یا ہم اکلوتے ہیں ؟
ایک صلح جُو سہیلی نے مشورہ دیا کہ اگر ہمیں بچوں سے اتنی محبت ہے تو ہمیں اپنے والدین کو صبا کے گھر بھیج دینا چاہیئے [یہ نہیں بتایا کہ پھر اکیلے گھر میں ہم کیا کریں؟] وغیرہ، وغیرہ
یقین جانیئے کے چندے کی بوتل خریدتے ہوئے ہم اور ہمارے دوستوں کے وہم و گمان میں بھی یہ ‘ کری ایٹو’ باتیں نہیں تھیں سوالات کی یلغار تھمی تو ہم نے قریب جا کر صبا کو گرائپ واٹر پہ بنی ہوئی بچے کی تصویر اور ان کی بھرپور جوانی کا ربط سمجھایا اور جب تردد کہ بعد انہیں سمجھ آیا تو انہوں نے ہمیں پیچھے دھکیلتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہم آئندہ ان سے ایک ہزار نوری سال کے فاصلے پہ رہیں۔ یوں وہ ہمارے ‘زھنِ شرارت ساز’ سے اور بھی قریب ہو گیئں۔
ہر تقریری مقابلے کے اختتام پہ شرکاء کا گروپ فوٹو کھنچوانا ایک روایت ہے۔ ایک مقابلے میں دوستوں نے شرط لگائی کے ہم گروپ فوٹو میں صبا کے برابر کھڑے ہو کے تصویر کھنچوائیں۔ شرط کے مطابق ہارنے والے کو ٹائی لگا کے بوائز ہوسٹل میس میں کھانا کھانا ہو گا جس میں بظاہر کوئی دقت نہیں تھی لیکن چونکہ شرط میں بقیہ کپڑوں کا زکر نہیں تھا اور موسم سرد تھا لہزا ہم تُرنت صبا کے برابر جا کر کھڑے ہو گئے۔ ہمیں قریب دیکھ کر صبا نے زور سے سانس کھینچی یعنئ غصے سے پھولے نا سمائیں اور جگہہ تبدیل کرلی، ہم نے بھی وقت اور موقعہ ضائع کیئے بغیر برابر والی خالی جگہہ سمبھالی۔ تبدیلیِء مقام کا واقعہ دو دفعہ اور دھرایا گیا اور جب صبا چینی اژدھے کی طرح چوتھی دفعہ آنکھوں سے زہر اور منہ سے شعلے اگلتی ہوئی جگہہ تبدیل کرنے کے لییے بڑھیں تو انکی پرنسپل کی پاٹ دار آواز نے صبا کے قدم جما دیے۔ ڈانٹ کے بعد ہال میں اتنا سکوت تھا کہ کیمروں کے فوکس ہونے کی آواز تک سنائی دے رہی تھی۔ ہم بیک وقت کیمروں اور صبا کو دیکھتے ہوئے چہرے پہ مسکراہٹ سجائے تصویر کھنچوانے ہی والے تھے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یکدم ہمیں اپنے قریب سے ایک زوردار آواز سنائی دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسی جیسے بڑے سے غبارے کو گرہ لگائے بغیر چھوڑنے سے پیدا ہوتی ہے۔ ہمارے کان ابھی اس دھماکے سے سُن ہی تھے کہ بدبو کا ایک بھپکا ہماری ناک کو سارا معاملہ سمجھا گیا۔ یہ سب کچھ آناً فاناً ہوا، اوسان بحال ہوئے تو احساس ہوا کہ ہمارے سامنے لوگوں کے چہرے نہیں،سوالیہ نشان ہیں جو صبا یا ہم میں سے کسی ایک کو موردِ دھماکہ ٹہرانے والے تھے۔ ہم ہاتھ اٹھا کے صبا کی طرف اشارہ کرنے ہی والے تھے کہ ایک اجنبی ہاتھ نے ہمارا ہاتھ زور سے پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نرم ہاتھ صبا کا تھا اور جب صبا سے ہماری نظریں چار ہوئیں تو ان آنکھوں میں نا شعلہ تھا نا زہر بلکہ اِک نم التِجا تھی جس نے شعلے کو بُجھا دیا اور زہر کو تِریاق کر دیا تھا۔
اُس دھماکے کی گونج کافی عرصے تک تقریری مقابلوں میں سنائی دی گئی لیکن پھر نہ کبھی وہ بھپکا آیا نہ ہی صبا، پر ہمیں وہ آنکھیں اب بھی یاد ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہمارے دوست ‘بادِ صبا’ کا زکر
No related posts.
You must be logged in to post a comment Login